بھٹکل 4/ستمبر (ایس او نیوز)جماعت اسلامی ہند کی جانب سے امن و انسانیت کے موضوع پرجو ملک گیر مہم چلائی جارہی ہے، اسی حوالے سے ادارہ ادب اسلامی کرناٹک(بھٹکل یونٹ) کے تحت ایک ”ہمہ لسانی مشاعرہ“ مورخہ 3/ ستمبر بروز سنیچر رابطہ ہال بھٹکل میں منعقد ہوا۔ اس مشاعرہ میں اردو کے علاوہ کنڑا، ہندی اور نوائطی شعراء بھی موجود تھے۔ مشاعرہ ٹھیک 10بجے جناب مولانا سید یاسر برماور کی تلاوت کلام پاک وترجمہ سے ہوا۔
محفل مشاعرہ کی صدارت مولانا جعفر فقی (نائب صدر ادارہ ادبِ اسلامی بھٹکل)نے کی۔ آغاز میں جناب سید سالک برماور نے انتظارنعیم صاحب کا ترانہ ”امن و انسانیت کا چلا کارواں“اپنی خوبصورت اور مترنم آواز میں سنایا۔ مشاعرے کے ناظم ڈاکٹر حنیف شباب نے شروع میں ہی صدارتی کلمات کیلئے صدر مشاعرہ کو آواز دی تاکہ صدارتی کلما ت سے حاضرین استفادہ کرسکیں۔ صدر مشاعرہ نے اپنے پرمختصر مگرپر مغز خطاب میں کہا کہ شعراء قوم و ملت کاسرمایہ ہیں۔ وہ اپنی پریم بھاؤنا، جذبہ اخوت اور اتحادو اتفاق کا پرچار کرتے ہیں۔دراصل کسی بھی زبان کے شعرا اور فنکار اتحاد کے پیامبراور محبت کے سفیر ہوا کرتے ہیں۔ اس کے بعد حنیف شاہ شبنمؔ نے اپنا کلام بہت خوبصور ت انداز میں پیش کیا۔بھٹکل کے نوجوان اور معروف و شاعرابن حسنؔ نے اپنے بہت ہی شاندار کلام سے مشاعرے میں رنگ بھر دیا۔ انہوں نے امن بھائی چارگی امن اخوت پر بہتر ین اشعار پیش کئے۔ بھٹکل کی خصوصیت اور یہاں پر موجود بھائی چارگی پرانہوں نے اپنی مشہور نظم "میرا بھٹکل“سنائی۔جسے حاضرین نے بہت سراہا۔
اس کے بعد کنڑاصحافی رضا مانوی صاحب نے کنڑا زبان میں اپنا کلام پیش کیا، جس کا مفہوم تھا کہ ہم سب ایک آدم کی اولاد ہیں اس لئے ہمیں چاہیے کہ آپسی اتحاد کے ساتھ ملک کی تعمیر میں حصہ لیں اور امن و انسانیت کا پیغام عام کریں۔اسی موضوع پرجناب سید ابوبکر مالکی،جناب اقبال سعیدی اور جناب سید اشرف برماور صاحب نے بھی عمدہ کلام پیش کرکے داد وتحسین حاصل کی۔ کنڑازبان کے مہمان شاعر سریش مرڈیشور اور کنڑا ساہتیہ پریشد کے تعلقہ صدر گنگا دھر نائک نے اپنے کلام کے ذریعے یہ پیغام دیا کہ اس دور کی اہم ضرورت باہمی امن و بقا ہے۔ اس لئے انسانی اقدار کو بچانے کیلئے ہم سب کو مل کر امن و انسانیت اور یکجہتی کیلئے کام کرنا چاہئے۔اس کے علاوہ گنگا دھر نائک نے اس موقع پر علامہ اقبال کی مشہور نظم "لب پہ آتی ہے دعا۔۔"انتہائی خوبصورت آواز اورشستہ لب ولہجہ میں سناکر حاضرین کا دل جیت لیا۔
نوائطی زبان کے مقبول عام شاعرجناب سید سمیع اللہ برماور نے اس موضوع پر ایک بہترین اور خوبصورت نظم پڑھی جو بہت ہی پسند کی گئی۔ انجمن کالج کے سابق پرنسپال اور ہندی پروفیسر کے۔ سی نذیراحمدنے ہندی کویتا کے ذریعے حاضرین سے خوب داد حاصل کی۔ مہمان شعرا جناب سراج ؔزیبائی اورمسرت پاشاہ راہیؔ نے اپنے کلام بلیغ سے سامعین محظوظ اور مسحور کردیا۔ ناظم مشاعرہ ڈاکٹر حنیف شباب صاحب نے ایک مختصر نظم سنائی جس کا ماحصل فرقہ وارانہ فساد سے انسانی اقدار کو پہنچنے والے ناقابل تلافی نقصان کی طر ف نشاندہی تھا۔ سکریٹری ادارہ ادب اسلامی بھٹکل جناب ابرار خطیبی نے شکریہ کے کلمات ادا کیے۔ آخر میں شعراء کو میمنٹو پیش کیا گیا۔ رات 12بجے صدر مشاعرہ کی اجازت سے محفل برخاست ہوئی۔